فهرس الكتاب

الصفحة 343 من 3890

کتاب: صلاۃ کے احکام ومسائل

مشرق اور مغرب کے درمیان میں جوہے سب قبلہ ہے​

343 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ: مِثْلَهُ.

قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ قَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ. وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي أَبِي مَعْشَرٍ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، وَاسْمُهُ"نَجِيحٌ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ". قَالَ مُحَمَّدٌ: لاَ أَرْوِي عَنْهُ شَيْئًا، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ النَّاسُ. قَالَ مُحَمَّدٌ: وَحَدِيثُ عَبْدِاللهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الأَخْنَسِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَقْوَى مِنْ حَدِيثِ أَبِي مَعْشَرٍ وَأَصَحُّ

یحیی بن موسیٰ کا بیان ہے کہ ہم سے محمدبن ابی معشر نے بھی اسی کے مثل بیان کیا ہے۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث ان سے اوربھی کئی سندوں سے مروی ہے،۲- بعض اہل علم نے ابومعشر کے حفظ کے تعلق سے کلام کیاہے۔ ان کانام نجیح ہے، وہ بنی ہاشم کے مولیٰ ہیں، ۳- محمدبن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: میں ان سے کوئی روایت نہیں کرتا حالاں کہ لوگوں نے ان سے روایت کی ہے نیزبخاری کہتے ہیں کہ عبداللہ بن جعفر مخرمی کی حدیث جسے انہوں نے بسند عثمان بن محمد اخنسی عن سعید المقبری عن أبی ہریرہ روایت کی ہے، ابومعشر کی حدیث سے زیادہ قوی اور زیادہ صحیح ہے۔ (یہ حدیث آگے آرہی ہے جو اسی معنی کی ہے)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت