فهرس الكتاب

الصفحة 3555 من 3890

کتاب: مسنون ادعیہ واذکار کے بیان میں

جو کلمہٗ توحید لا الہ الا اللہ...''دس بار کہے اس کی فضیلت

3555 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَال سَمِعْتُ كُرَيْبًا يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيْهَا وَهِيَ فِي مَسْجِدِهَا ثُمَّ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا قَرِيبًا مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ فَقَالَ لَهَا مَا زِلْتِ عَلَى حَالِكِ فَقَالَتْ نَعَمْ قَالَ أَلَا أُعَلِّمُكِ كَلِمَاتٍ تَقُولِينَهَا سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ وَهُوَ شَيْخٌ مَدَنِيٌّ ثِقَةٌ وَقَدْ رَوَى عَنْهُ الْمَسْعُودِيُّ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ

ام المومنین جویریہ بنت حارث سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس سے گزرے اور وہ (اس وقت) اپنی مسجد میں تھیں (جہاں وہ باقاعدہ گھرمیں صلاۃ پڑھتی تھیں) ، دوپہر میں رسول اللہﷺ کا ان کے پاس سے پھر گزرہوا، رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا: تب سے تم اسی حال میں ہو؟ (یعنی اسی وقت سے اس وقت تک تم ذکر و تسبیح ہی میں بیٹھی ہو) انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا:' کیا میں تمہیں چند کلمے ایسے نہ سکھادوں جنہیں تم کہہ لیا کرو۔ (اور پھر پورا ثواب پاؤ) وہ کلمے یہ ہیں: ' سُبْحَانَ اللَّہِ عَدَدَ خَلْقِہِ، سُبْحَانَ اللَّہِ عَدَدَ خَلْقِہِ، سُبْحَانَ اللَّہِ عَدَدَ خَلْقِہِ، سُبْحَانَ اللَّہِ رِضَا نَفْسِہِ، سُبْحَانَ اللَّہِ رِضَا نَفْسِہِ، سُبْحَانَ اللَّہِ رِضَا نَفْسِہِ، سُبْحَانَ اللَّہِ زِنَۃَ عَرْشِہِ، سُبْحَانَ اللَّہِ زِنَۃَ عَرْشِہِ، سُبْحَانَ اللَّہِ زِنَۃَ عَرْشِہِ، سُبْحَانَ اللَّہِ مِدَادَ کَلِمَاتِہِ، سُبْحَانَ اللَّہِ مِدَادَ کَلِمَاتِہِ، سُبْحَانَ اللَّہِ مِدَادَ کَلِمَاتِہِ' ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲- محمد بن عبدالرحمن آل طلحہ کے آزاد کردہ غلام ہیں، وہ مدینہ کے رہنے والے شیخ ہیں اور ثقہ ہیں، یہ حدیث مسعودی اور ثوری نے بھی ان سے روایت کی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت