فهرس الكتاب

الصفحة 360 من 3890

کتاب: صلاۃ کے احکام ومسائل

جوکسی قوم کی امامت کرے، اور لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں​

360 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو غَالِبٍ قَال سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ آذَانَهُمْ الْعَبْدُ الْآبِقُ حَتَّى يَرْجِعَ وَامْرَأَةٌ بَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَلَيْهَا سَاخِطٌ وَإِمَامُ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَأَبُو غَالِبٍ اسْمُهُ حَزَوَّرٌ

ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ( ﷺ ) نے فرمایا: 'تین لوگوں کی صلاۃان کے کانوں سے اوپر نہیں جاتی: ایک بھگوڑے غلام کی جب تک کہ وہ (اپنے مالک کے پاس) لوٹ نہ آئے، دوسرے عورت کی جورات گزارے اور اس کا شوہر اس سے ناراض ہو، تیسرے اس امام کی جسے لوگ ناپسند کرتے ہوں'۔

امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت