فهرس الكتاب

الصفحة 3628 من 3890

کتاب: فضائل و مناقب کے بیان میں

ہر پہاڑ اور درخت کا نبیﷺ کو سلام کے ساتھ استقبال کرنے کے بارے میں علیؓ کا قول

3628 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بِمَ أَعْرِفُ أَنَّكَ نَبِيٌّ قَالَ إِنْ دَعَوْتُ هَذَا الْعِذْقَ مِنْ هَذِهِ النَّخْلَةِ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَنْزِلُ مِنْ النَّخْلَةِ حَتَّى سَقَطَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ ارْجِعْ فَعَادَ فَأَسْلَمَ الْأَعْرَابِيُّ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا: کیسے میں جانوں کہ آپ نبی ہیں؟ آپ نے فرمایا:' اگر میں اس کھجور کے درخت کے اس ٹہنی کوبلالوں تو کیا تم میرے بارے میں اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دوگے؟ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا تو وہ (ٹہنی) کھجور کے درخت سے اتر کر نبی اکرمﷺ کے سامنے گرپڑی، پھر آپ نے فرمایا:' لوٹ جا تو وہ واپس چلی گئی یہ دیکھ کر وہ اعرابی اسلام لے آیا'۔

امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت