فهرس الكتاب

الصفحة 3647 من 3890

کتاب: فضائل و مناقب کے بیان میں

ابن سمرہ ؓ کا قول کہ رسول اللہﷺ کی دونوں پنڈلیوں میں باریکی تھی

3647 حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَلِيعَ الْفَمِ أَشْكَلَ الْعَيْنَيْنِ مَنْهُوشَ الْعَقِبِ قَالَ شُعْبَةُ قُلْتُ لِسِمَاكٍ مَا ضَلِيعُ الْفَمِ قَالَ وَاسِعُ الْفَمِ قُلْتُ مَا أَشْكَلُ الْعَيْنَيْنِ قَالَ طَوِيلُ شَقِّ الْعَيْنِ قَالَ قُلْتُ مَا مَنْهُوشُ الْعَقِبِ قَالَ قَلِيلُ اللَّحْمِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کشادہ منہ والے تھے، آپ کی آنکھ کے ڈورے سرخ اور ایڑیاں کم گوشت والی تھیں۔شعبہ کہتے ہیں: میں نے سماک سے پوچھا:' ضَلِیعُ الْفَمِ' کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: اس کے معنی کشادہ منہ کے ہیں، میں نے پوچھا ' اشکل العین ' کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: اس کے معنی بڑی آنکھ والے کے ہیں،وہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: ' مَنْہُوشُ الْعَقِبِ' کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: کم گوشت کے ہیں۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت