3701 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ وَاقِعٍ الرَّمْلِيُّ حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَوْذَبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ جَاءَ عُثْمَانُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَلْفِ دِينَارٍ قَالَ الْحَسَنُ بْنُ وَاقِعٍ وَكَانَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ مِنْ كِتَابِي فِي كُمِّهِ حِينَ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَيَنْثُرُهَا فِي حِجْرِهِ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَلِّبُهَا فِي حِجْرِهِ وَيَقُولُ مَا ضَرَّ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ
عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:عثمان رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک ہزار دینار لے کر آئے ، (حسن بن واقع جو راوی حدیث ہیں کہتے ہیں: دوسری جگہ میری کتاب میں یوں ہے کہ وہ اپنی آستین میں لے کر آئے) ، جس وقت انہوں نے جیش عسرہ کو تیار کیا، اور اسے آپ کی گود میں ڈال دیا ، میں نبی اکرم ﷺکو اسے اپنی گود میں الٹتے پلٹتے دیکھااور یہ کہتے سناکہ آج کے بعد سے عثمان کوکوئی بھی برا عمل نقصان نہیں پہنچائے گا'، ایسا آپ نے دوبار فرمایا۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔