فهرس الكتاب

الصفحة 397 من 3890

کتاب: صلاۃ کے احکام ومسائل

آدمی کو صلاۃ پڑھتے وقت کمی یا زیادتی میں شک وشبہ ہوجائے تو کیا کرے؟​

397 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَيَلْبِسُ عَلَيْهِ حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ' آدمی کے پاس شیطان اس کی صلاۃ میں آتاہے اور اُسے شبہ میں ڈال دیتاہے، یہاں تک آدمی نہیں جان پاتاکہ اس نے کتنی رکعت پڑھی ہیں ؟ چنانچہ تم میں سے کسی کو اگر اس قسم کا شبہ محسوس ہوتو اسے چاہئے کہ وہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دوسجدے کرلے' ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

۱؎: یقینی بات پربنا کرنے کے بعد۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت