فهرس الكتاب

الصفحة 433 من 3890

کتاب: صلاۃ کے احکام ومسائل

مغرب کی دو رکعت سنت گھر میں پڑھنے کا بیان​

433 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَفِظْتُ عَنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ عَشْرَ رَكَعَاتٍ كَانَ يُصَلِّيهَا بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ. قَالَ: وَحَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْفَجْرِ رَكْعَتَيْنِ. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہﷺسے دس رکعتیں یاد ہیں جنہیں آپ رات اور دن میں پڑھا کرتے تھے: دورکعتیں ظہر سے پہلے ۱ ؎ ، دو اس کے بعد، دورکعتیں مغرب کے بعد، اور دورکعتیں عشا کے بعد، اور مجھ سے حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ آپ فجر سے پہلے دورکعتیں پڑھتے تھے۔

امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

۱؎: نبی اکرمﷺکی ظہرکے فرضوں سے پہلے چاررکعت پڑھنا ثابت ہے ، مگریہاں دوکاذکرہے ، حافظ ابن حجرنے دونوں میں تطبیق یوں دی ہے کہ آپ کبھی ظہرسے پہلے دورکعتیں پڑھ لیاکرتے تھے اورکبھی چار۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت