فهرس الكتاب

الصفحة 451 من 3890

کتاب: صلاۃ کے احکام ومسائل

نفل صلاۃ گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان​

451 حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:'تم اپنے گھروں میں صلاۃ پڑھو ۱؎ اور انہیں قبرستان نہ بناؤ' ۲؎ ۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

۱؎: اس سے مراد نوافل اورسنن ہیں۔

۲؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جن گھروں میں نوافل کی ادائیگی کا اہتمام ہوتا ہے وہ قبرستان کی طرح نہیں ہیں، اورجن گھروں میں نوافل وغیرہ کااہتمام نہیں کیاجاتاوہ قبرستان کے مثل ہیں،جس طرح قبریں عمل اورعبادت سے خالی ہوتی ہیں ایسے گھر بھی عمل وعبادت سے محروم قبرستان کے ہوتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت