فهرس الكتاب

الصفحة 474 من 3890

کتاب: صلاۃِ وترکے احکام و مسائل

صلاۃ الضحی( چاشت کی صلاۃ) کا بیان​

474 حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ مَا أَخْبَرَنِي أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى إِلَّا أُمَّ هَانِئٍ فَإِنَّهَا حَدَّثَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ بَيْتَهَا يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَاغْتَسَلَ فَسَبَّحَ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ مَا رَأَيْتُهُ صَلَّى صَلَاةً قَطُّ أَخَفَّ مِنْهَا غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَكَأَنَّ أَحْمَدَ رَأَى أَصَحَّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثَ أُمِّ هَانِئٍ وَاخْتَلَفُوا فِي نُعَيْمٍ فَقَالَ بَعْضُهُمْ نُعَيْمُ بْنُ خَمَّارٍ و قَالَ بَعْضُهُمْ ابْنُ هَمَّارٍ وَيُقَالُ ابْنُ هَبَّارٍ وَيُقَالُ ابْنُ هَمَّامٍ وَالصَّحِيحُ ابْنُ هَمَّارٍ وَأَبُو نُعَيْمٍ وَهِمَ فِيهِ فَقَالَ ابْنُ حِمَازٍ وَأَخْطَأَ فِيهِ ثُمَّ تَرَكَ فَقَالَ نُعَيْمٌ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو عِيسَى و أَخْبَرَنِي بِذَلِكَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ

عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ مجھے صرف ام ہانی رضی اللہ عنہا نے خبردی کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو چاشت کی صلاۃ پڑھتے دیکھاہے، ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہﷺ ان کے گھر میں داخل ہوئے تو غسل کیا اور آٹھ رکعتیں پڑھیں، میں نے آپ کونہیں دیکھا کہ آپ نے اس سے بھی ہلکی صلاۃ کبھی پڑھی ہو، البتہ آپ رکوع اورسجدے پورے پورے کررہے تھے۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲- احمد بن حنبل کی نظر میں اس باب میں سب سے زیادہ صحیح ام ہانی رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت