فهرس الكتاب

الصفحة 632 من 3890

کتاب: زکاۃ وصدقات کے احکام ومسائل

حاصل شدہ مال میں زکاۃ نہیں جب تک کہ اس پر سال نہ گزرجائے​

632 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ مَنْ اسْتَفَادَ مَالًا فَلَا زَكَاةَ فِيهِ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ عِنْدَ رَبِّهِ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ أَبُو عِيسَى وَرَوَى أَيُّوبُ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَغَيْرُهُمَا مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ وَهُوَ كَثِيرُ الْغَلَطِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا زَكَاةَ فِي الْمَالِ الْمُسْتَفَادِ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ وَبِهِ يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ و قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا كَانَ عِنْدَهُ مَالٌ تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ فَفِيهِ الزَّكَاةُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ سِوَى الْمَالِ الْمُسْتَفَادِ مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ لَمْ يَجِبْ عَلَيْهِ فِي الْمَالِ الْمُسْتَفَادِ زَكَاةٌ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ فَإِنْ اسْتَفَادَ مَالًا قَبْلَ أَنْ يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ فَإِنَّهُ يُزَكِّي الْمَالَ الْمُسْتَفَادَ مَعَ مَالِهِ الَّذِي وَجَبَتْ فِيهِ الزَّكَاةُ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَأَهْلُ الْكُوفَةِ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:جسے کوئی مال حاصل ہوتو اس پرزکاۃ نہیں جب تک کہ اس کے ہاں اس مال پر ایک سال نہ گزرجائے ۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ (موقوف ) حدیث عبدالرحمن بن زید بن اسلم کی (مرفوع) حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ ۲- ایوب، عبیداللہ بن عمر اور دیگرکئی لوگوں نے نافع سے اور انہوں نے ابن عمر سے موقوفًا (ہی) روایت کی ہے۔ ۳-عبدالرحمن بن زید بن اسلم حدیث میں ضعیف ہیں، احمد بن حنبل ، علی بن مدینی اوران کے علاوہ دیگر محدثین نے ان کی تضعیف کی ہے وہ کثرت سے غلطیاں کرتے ہیں، ۴- صحابہ کرام میں سے کئی لوگوں سے مروی ہے کہ حاصل شدہ مال میں زکاۃ نہیں ہے،جب تک کہ اس پر سال نہ گزر جائے، مالک بن انس ، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں، ۵- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب آدمی کے پاس پہلے سے اتنامال ہوجس میں زکاۃ واجب ہو توحاصل شدہ مال میں بھی زکاۃواجب ہوگی اور اگر اس کے پاس حاصل شدہ مال کے علاوہ کوئی اورمال نہ ہو جس میں زکاۃ واجب ہوئی ہو توکمائے ہوئے مال میں بھی کوئی زکاۃ واجب نہیں ہوگی جب تک کہ اس پر سال نہ گزرجائے، اور اگر اسے (پہلے سے نصاب کو پہنچے ہوئے) مال پر سال گزرنے سے پہلے کوئی کمایا ہوا مال ملاتو وہ اس مال کے ساتھ جس میں زکاۃ واجب ہوگئی ہے، مال مستفادکی بھی زکاۃ نکالے گاسفیان ثوری اور اہل کوفہ اسی کے قائل ہیں۔

نوٹ: (یہ اثر عبد اللہ بن عمرکا قول ہے ، یعنی موقوف ہے ، جو مرفوع حدیث کے حکم میں ہے ۔)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت