فهرس الكتاب

الصفحة 688 من 3890

کتاب: روزے کے احکام ومسائل

رمضان کے لیے شعبان کے چاند کی گنتی کرنے کا بیان​

688 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَصُومُوا قَبْلَ رَمَضَانَ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ حَالَتْ دُونَهُ غَيَايَةٌ فَأَكْمِلُوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي بَكْرَةَ وَابْنِ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: 'رمضان سے پہلے ۱؎ صوم نہ رکھو، چاند دیکھ کر صوم رکھو، اور دیکھ کر ہی بند کرو، اور اگر بادل آڑے آجائے تو مہینے کے تیس دن پورے کرو' ۲؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے اور کئی سندوں سے یہ حدیث روایت کی گئی ہے۔ ۲- اس باب میں ا بوہریرہ ، ابوبکرہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

۱؎: 'رمضان سے پہلے'سے مرادشعبان کا دوسرا نصف ہے، مطلب یہ ہے کہ ۱۵شعبان کے بعدنفلی صیام نہ رکھے جائیں تاکہ رمضان کے فرض صیام کے لیے اس کی قوت وتوانائی برقرار رہے۔ ۲؎ یعنی بادل کی وجہ سے مطلع صاف نہ ہو اور۲۹شعبان کو چاندنظرنہ آئے توشعبان کے تیس دن پورے کرکے رمضان کے صیام شروع کئے جائیں، اسی طرح اگر۲۹رمضان کوچاندنظرنہ آئے تو رمضان کے تیس صیام پورے کرکے عیدالفطرمنائی جائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت