فهرس الكتاب

الصفحة 722 من 3890

کتاب: روزے کے احکام ومسائل

صائم بھول کر کچھ کھاپی لے توکیسا ہے؟​

722 حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ وَخَلاَّسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ مِثْلَهُ أَوْ نَحْوَهُ. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأُمِّ إِسْحَاقَ الْغَنَوِيَّةِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ، وقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ: إِذَا أَكَلَ فِي رَمَضَانَ نَاسِيًا فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ وَالْقَوْلُ الأَوَّلُ أَصَحُّ

اس سند سے بھی ابوہریرہ نے نبی اکرمﷺ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں ابوسعیدخدری اورام اسحاق غنویہ رضی اللہ عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں،۳- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ سفیان ثوری ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں،۴- مالک بن انس کہتے ہیں کہ جب کوئی رمضان میں بھول کر کھاپی لے توا س پرصیام کی قضا لازم ہے، پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت