751 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالاَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَةَ فَقَالَ: حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَمَعَ عُمَرَ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَمَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ يَصُمْهُ. وَأَنَا لاَ أَصُومُهُ وَلاَ آمُرُ بِهِ وَلاَ أَنْهَى عَنْهُ.
قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ. وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَأَبُو نَجِيحٍ اسْمُهُ يَسَارٌ وَقَدْ سَمِعَ مِنْ ابْنِ عُمَرَ
ابو نجیح یسار کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرفہ کے دن عرفات میں صوم رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہاکہ میں نے نبی اکرمﷺ کے ساتھ حج کیا۔ آپ نے اس دن کا صوم نہیں رکھا۔ ابوبکر کے ساتھ حج کیا، انہوں نے بھی نہیں رکھا، عمر کے ساتھ کیا ۔ انہوں نے بھی نہیں رکھا۔ عثمان کے ساتھ کیا تو انہوں نے بھی نہیں رکھا ( رضی اللہ عنہم ) ،میں بھی اس دن (وہاں عرفات میں ) صوم نہیں رکھتا ہوں، البتہ نہ تو میں اس کا حکم دیتاہوں اورنہ ہی اس سے روکتاہوں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن ہے،۲- یہ حدیث ابن ابی نجیح سے بطریق: ' عن أبیہ عن رجل ۱ ؎ عن ابن عمر' بھی مروی ہے۔ ابونجیح کا نام یسار ہے اور انہوں نے ابن عمرسے سُناہے
۱؎: اس کامطلب یہ ہے کہ ابونجیح نے اس حدیث کو پہلے ابن عمرسے ایک آدمی کے واسطے سے سنا تھا پھر بعد میں ابن عمر سے ان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے اسے براہ راست بغیر واسطے کے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔