فهرس الكتاب

الصفحة 777 من 3890

کتاب: روزے کے احکام ومسائل

صائم کے لیے پچھنالگوانے کی رخصت کا بیان​

777 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مِقْسَمٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ فِيمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَهُوَ مُحْرِمٌ صَائِمٌ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَجَابِرٍ وأَنَسٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ وَلَمْ يَرَوْا بِالْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ بَأْسًا وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَالشَّافِعِيِّ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے ایسے وقت میں پچھنا لگوایا جس میں آپ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے ،آپ احرام باندھے ہوے تھے اور صوم کی حالت میں تھے۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں ابوسعیدخدری ، جابر اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، وہ صائم کے پچھنا لگوانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ۔ سفیان ثوری ، مالک بن انس ، اور شافعی کابھی یہی قول ہے۔

نوٹ: (اس لفظ کے ساتھ منکر ہے، صحیح یہ ہے کہ نبی اکرمﷺنے حالت احرام میں سینگی لگوائی تو صوم سے نہیں تھے کماتقدم اور حالت صیام میں سینگی لگانے کا واقعہ الگ ہے)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت