880 حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَجْلَحِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِمِنًى الظُّهْرَ وَالْفَجْرَ ثُمَّ غَدَا إِلَى عَرَفَاتٍ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَأَنَسٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ مِقْسَمٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ قَالَ يَحْيَى قَالَ شُعْبَةُ لَمْ يَسْمَعْ الْحَكَمُ مِنْ مِقْسَمٍ إِلَّا خَمْسَةَ أَشْيَاءَ وَعَدَّهَا وَلَيْسَ هَذَا الْحَدِيثُ فِيمَا عَدَّ شُعْبَةُ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے منیٰ میں ظہر اور فجر پڑھی ۱ ؎ ، پھرآپ صبح ہی صبح ۲؎ عرفات کے لیے روانہ ہوگئے۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- مقسم کی حدیث ابن عباس سے مروی ہے،۲- شعبہ کا بیان ہے کہ حکم نے مقسم سے صرف پانچ چیزیں سنی ہیں، اورانہوں نے انہیں شمارکیا تو یہ حدیث شعبہ کی شمارکی ہوئی حدیثوں میں نہیں تھی،۳- اس باب میں عبداللہ بن زبیر اور انس سے بھی احادیث آئی ہے۔
۱ ؎: یعنی: ظہر سے لے کر فجر تک پڑھی۔ظہر، عصر جمع اورقصرکرکے ، پھرمغرب اورعشاء جمع اورقصرکرکے ۔
۲؎: یعنی نویں ذی الحجہ کو سورج نکلنے کے فورًا بعد۔