955 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرِعَاءِ الْإِبِلِ فِي الْبَيْتُوتَةِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَجْمَعُوا رَمْيَ يَوْمَيْنِ بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ فَيَرْمُونَهُ فِي أَحَدِهِمَا قَالَ مَالِكٌ ظَنَنْتُ أَنَّهُ قَالَ فِي الْأَوَّلِ مِنْهُمَا ثُمَّ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّفْرِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ
عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اونٹ کے چرواہوں کو (منی میں ) رات گزارنے کے سلسلہ میں رخصت دی کہ وہ دسویں ذی الحجہ کو (جمرئہ عقبہ کی) رمی کرلیں۔ پھر دسویں ذی الحجہ کے بعد کے دو دنوں کی رمی جمع کرکے ایک دن میں اکٹھی کرلیں ۱؎ (مالک کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ راوی نے کہا) 'پہلے دن رمی کرلے پھر کوچ کے دن رمی کرے '۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، اوریہ ابن عیینہ کی عبداللہ بن ابی بکر سے روایت والی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
۱؎: اس جمع کی دوصورتیں ہیں ایک یہ کہ تیرہویں کو بارہویں اورتیرہویں دونوں دنوں کی رمی ایک ساتھ کریں، دوسری صورت یہ ہے کہ گیارہویں کو گیارہویں اوربارہویں دونوں دنوں کی رمی ایک ساتھ کریں پھرتیرہویں کو آکررمی کریں۔