فهرس الكتاب

الصفحة 958 من 3890

کتاب: حج کے احکام ومسائل

حج اکبر کے دن کے بیان میں

958 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ يَوْمُ النَّحْرِ قَالَ أَبُو عِيسَى وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ وَرِوَايَةُ ابْنِ عُيَيْنَةَ مَوْقُوفًا أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ مَرْفُوعًا هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ الْحُفَّاظِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ مَوْقُوفًا وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ مَوْقُوفًا

علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حج اکبر (بڑے حج) کادن دسویں ذی الحجہ کادن ہے ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ا بن ابی عمر نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے اوریہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے اورابن عیینہ کی موقوف روایت محمد بن اسحاق کی مرفوع روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ اسی طرح بہت سے حفاظ حدیث نے اسے بسند ابی اسحاق سبیعیعن عبداللہ بن مرہ عنحارثعن علی موقوفًاروایت کیا ہے ، شعبہ نے بھی ابواسحاق سبیعی سے روایت کی ہے انہوں نے یوں کہا ہے 'عن عبداللہ بن مرہ عن الحارث عن علی موقوفا'۲؎ ۔

۱؎: دسویں تاریخ کو حج اکبر (بڑا حج) اس لیے کہاجاتاہے کہ اسی دن حج کے اکثر افعال انجام دیئے جاتے ہیں، مثلًا جمرئہ عقبہ کی رمی (کنکری مارنا) ، حلق (سرمنڈوانا) ، ذبح ، طواف زیارت وغیرہ اعمال حج، اورعوام میں جو یہ مشہورہے کہ حج اکبراس حج کو کہتے ہیں جس میں دسویں تاریخ جمعہ کو آپڑی ہو، تو اس کی کوئی اصل نہیں، رہی طلحہ بن عبیداللہ بن کرز کی روایت ' أفضل الأيام يوم عرفه وإذا وافق يوم جمعة فهو أفضل من سبعين حجة في غير يوم جمعة' تو یہ مرسل ہے، اوراس کی سندبھی معلوم نہیں، اورحج اصغرسے جمہورعمرہ مرادلیتے ہیں اورایک قول یہ بھی ہے کہ حج اصغریوم عرفہ ہے اورحج اکبریوم النحر۔ ۲؎: یعنی شعبہ والی روایت میں ابواسحاق سبیعی اورحارث کے درمیان عبداللہ بن مرہ کے واسطے کااضافہ ہے جب کہ دیگرحفاظ کی روایت میں ایسانہیں ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت