فهرس الكتاب

الصفحة 979 من 3890

کتاب: جنازے کے احکام ومسائل

موت کے وقت کی سختی کا بیان​

979 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ الْبَغْدَادِيُّ حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَعِيلَ الْحَلَبِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا أَغْبِطُ أَحَدًا بِهَوْنِ مَوْتٍ بَعْدَ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ شِدَّةِ مَوْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا زُرْعَةَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ وَقُلْتُ لَهُ مَنْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْعَلَاءِ فَقَالَ هُوَ الْعَلَاءُ بْنُ اللَّجْلَاجِ وَإِنَّمَا عَرَّفَهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ کی موت کی جو شدت میں نے دیکھی، اس کے بعد میں کسی کی جان آسانی سے نکلنے پررشک نہیں کرتی ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے ابوزرعہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا کہ عبدالرحمن بن علاء کون ہیں؟ توانہوں نے کہا: وہ علاء بن اللجلاج ہیں، میں اسے اسی طریق سے جانتاہوں۔

۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ موت کی سختی بُرے ہونے کی دلیل نہیں بلکہ یہ ترقی درجات اورگناہوں کی مغفرت کا بھی سبب ہوتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت