فهرس الكتاب

الصفحة 1325 من 3890

کتاب: حکومت وقضاء کے بیان میں

قاضی اورقضاء کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کے ارشادات​

1325 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَلِيَ الْقَضَاءَ أَوْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ أَيْضًا مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'جس شخص کو منصب قضا پرفائز کیا گیایا جولوگوں کا قاضی بنایا گیا، ( گویا) وہ بغیر چھری کے ذبح کیاگیا' ۱؎ ۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے، ۲- اوریہ اس سند کے علاوہ دوسری سندسے بھی ابوہریرہ سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرمﷺسے روایت کی ہے۔

۱؎: ایک قول کے مطابق ذبح کا معنوی مفہوم مراد ہے کیونکہ اگراس نے صحیح فیصلہ دیا تودنیاوالے اس کے پیچھے پڑجائیں گے اوراگرغلط فیصلہ دیا تو وہ آخرت کے عذاب کا مستحق ہوگا ، اورایک قول یہ ہے کہ یہ تعبیراس لیے اختیارکی گئی ہے کہ اسے خبرداراورمتنبہ کیاجائے کہ اس ہلاکت سے مراداس کے دین وآخرت کی تباہی وبربادی ہے، بدن کی نہیں، یا یہ کہ چھری سے ذبح کرنے میں مذبوح کے لیے راحت رسانی ہوتی ہے اور بغیرچھری کے گلا گھوٹنے یا کسی اورطرح سے زیادہ تکلیف کا باعث ہوتا ہے، لہذا اس کے ذکر سے ڈرانے اورخوف دلانے میں مبالغہ کا بیان ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت