فهرس الكتاب

الصفحة 1324 من 3890

کتاب: حکومت وقضاء کے بیان میں

قاضی اورقضاء کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کے ارشادات​

1324 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ عَنْ بِلَالِ بْنِ مِرْدَاسٍ الْفَزَارِيِّ عَنْ خَيْثَمَةَ وَهُوَ الْبَصْرِيُّ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ابْتَغَى الْقَضَاءَ وَسَأَلَ فِيهِ شُفَعَاءَ وُكِلَ إِلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أُكْرِهَ عَلَيْهِ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ مَلَكًا يُسَدِّدُهُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:' جو قضاکاطالب ہوتاہے اور اس کے لیے سفارشی ڈھونڈتاہے، وہ اپنی ذات کے سپردکردیاجاتاہے، اور جس کو جبرًا قاضی بنایا گیاہے، اللہ اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کو راہ راست پررکھتاہے'۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اوریہ اسرائیل کی (سابقہ) روایت سے جسے انہوں نے عبدالاعلیٰ سے روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے۔

نوٹ: (اس کی سند میں بھی وہی بلال ہیں جو لین الحدیث ہیں، نیز 'خیثمہ بصری' بھی لین الحدیث ہیں)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت