فهرس الكتاب

الصفحة 1401 من 3890

کتاب: دیت وقصاص کے احکام ومسائل

آدمی اپنے بیٹے کوقتل کردے توکیا قصاص لیا جائے گا یانہیں؟​

1401 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُقَامُ الْحُدُودُ فِي الْمَسَاجِدِ وَلَا يُقْتَلُ الْوَالِدُ بِالْوَلَدِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْمَعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ وَإِسْمَعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ قَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:' مسجدوں میں حدودنہیں قائم کی جائیں گی اوربیٹے کے بدلے باپ کو (قصاص میں) قتل نہیں کیاجائے گا'۔

امام ترمذی کہتے ہیں: اس سند سے اس حدیث کو ہم صرف اسماعیل بن مسلم کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں اور اسماعیل بن مسلم مکی کے حفظ کے سلسلے میں بعض اہل علم نے کلام کیا ہے ۱ ؎ ۔

۱ ؎: لیکن شواہد کی بنا پر حدیث حسن ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت