فهرس الكتاب

الصفحة 1479 من 3890

کتاب: شکار کے احکام ومسائل

ہر کیچلی دانت والے درندے اورپنجہ والے پرندے کی حرمت کا بیان​

1479 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ كُلَّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ وَهُوَ قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ہر کچلی دانت والے درندے کوحرام قراردیا۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- صحابہ کرام اور دیگرلوگوں میں سے اکثراہل علم کا اسی پر عمل ہے، عبداللہ بن مبارک ، شافعی ، احمداوراسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے ۱؎ ۔

۱؎: سورہ انعام کی آیت {قُل لاَّ أَجِدُ فِي مَا أُوْحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلاَّ أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللّهِ بِهِ} (الأنعام:145) کے عام مفہوم سے یہ استدلال کرنا کہ ہرکچلی دانت والے درندے اور پنجہ والے پرندے حلال ہیں درست نہیں، کیوں کہ باب کی یہ حدیث اور سورہ مائدہ کی آیت وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلاَّ مَا ذَكَّيْتُمْ (المائدة:3) سورہ انعام کی مذکورہ آیت کے لیے مخصص ہے، نیز سورہ مائدہ کی آیت مدنی ہے جب کہ سورہ انعام کی آیت مکی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت