فهرس الكتاب

الصفحة 2667 من 3890

کتاب: علم اور فہم دین کے بیان میں

نبی اکرم ﷺکی طرف سے احادیث لکھنے کی اجازت​

2667 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَا حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فَذَكَرَ الْقِصَّةَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ أَبُو شَاهٍ اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَى شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ مِثْلَ هَذَا

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیا اوردوران خطبہ آپ نے کوئی قصہ (کوئی واقعہ) بیان کیا تو ابوشاہ نے کہا: اللہ کے رسول! میرے لیے لکھوا دیجئے (یعنی کسی سے لکھادیجئے) تورسول اللہ ﷺ نے (صحابہ سے) کہا ابوشاہ کے لیے لکھ دو۔حدیث میں پورا واقعہ مذکورہے ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شیبان نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی جیسی روایت بیان کی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت