فهرس الكتاب

الصفحة 2668 من 3890

کتاب: علم اور فہم دین کے بیان میں

نبی اکرم ﷺکی طرف سے احادیث لکھنے کی اجازت​

2668 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَخِيهِ وَهُوَ هَمَّامُ بْنُ مُنَبِّهٍ قَال سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي إِلَّا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ وَكُنْتُ لَا أَكْتُبُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَوَهْبُ بْنُ مُنَبِّهٍ عَنْ أَخِيهِ هُوَ هَمَّامُ بْنُ مُنَبِّهٍ

ہمام بن منبہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سوائے عبداللہ بن عمروکے رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کرنے والا مجھ سے زیاد ہ کوئی نہیں ہے اورمیرے اور عبداللہ بن عمرو کے درمیان یہ فرق تھا کہ وہ (احادیث) لکھ لیتے تھے اور میں لکھتانہیں تھا ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور روایت میں 'وہب بن منبہ، عن أخیہ' جو آیا ، تو 'أخیہ' سے مراد ہمام بن منبہ ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت