فهرس الكتاب

الصفحة 2914 من 3890

کتاب: قرآن کریم کے فضائل ومناقب کے بیان میں

جس دل میں قرآن میں سے کچھ نہیں وہ ویران گھر کی مانند ہے

2914 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ وَأَبُو نُعَيْمٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ اقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا فَإِنَّ مَنْزِلَتَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَأُ بِهَا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:' (قیامت کے دن) صاحب قرآن سے کہاجائے گا: (قرآن) پڑھتاجا اور (بلندی کی طرف) چڑھتا جا۔ اور ویسے ہی ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جس طرح تو دنیا میں ٹھہر ٹھہرکر ترتیل کے ساتھ پڑھتا تھا۔پس تیری منزل وہ ہوگی جہاں تیری آخری آیت کی تلاوت ختم ہوگی ' ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ بندارنے ہم سے بطریق:' عبدالرحمن بن مہدی، عن سفیان، عن عاصم'اسی جیسی حدیث بیان کی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت