3720 حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْبَغْدَادِيُّ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحِ بْنِ حَيٍّ عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ فَجَاءَ عَلِيٌّ تَدْمَعُ عَيْنَاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ آخَيْتَ بَيْنَ أَصْحَابِكَ وَلَمْ تُؤَاخِ بَيْنِي وَبَيْنَ أَحَدٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتَ أَخِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَفِي الْبَاب عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أَوْفَى
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کے درمیان باہمی بھائی چارا کرایا تو علی روتے ہوئے آئے اور کہا: اللہ کے رسول ! آپ نے اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارا کرایا ہے اور میری بھائی چارگی کسی سے نہیں کرائی؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا:' تم میرے بھائی ہو دنیا اور آخرت دونوں میں'۔
امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،۲- اس باب میں زید بن ابی اوفیٰ سے بھی روایت ہے۔
نوٹ: (سندمیں حکیم بن جبیر ضعیف رافضی ہے)