فهرس الكتاب

الصفحة 3721 من 3890

کتاب: فضائل و مناقب کے بیان میں

انصار کا قول کہ ہم لوگ پہنچاتے ہیں منافقین کو کہ وہ علی سے عداوت رکھتےہیں

3721 حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ عِيسَى بْنِ عُمَرَ عَنْ السُّدِّيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَيْرٌ فَقَالَ اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ يَأْكُلُ مَعِي هَذَا الطَّيْرَ فَجَاءَ عَلِيٌّ فَأَكَلَ مَعَهُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ السُّدِّيِّ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ وَعِيسَى بْنُ عُمَرَ هُوَ كُوفِيٌّ وَالسُّدِّيُّ اسْمُهُ إِسْمَعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَقَدْ أَدْرَكَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَرَأَى الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَزَائِدَةُ وَوَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک پرندہ تھا ، آپ نے دعا فرمائی کہ اے للہ ! میرے پاس ایک ایسے شخص کو لے آجو تیری مخلوق میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہوتاکہ وہ میرے ساتھ اس پرندہ کا گوشت کھائے ،تو علی آئے اور انہوں نے آپ کے ساتھ کھانا کھایا۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے سدی کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں،۲- یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے،۳- عیسیٰ بن عمر کو فی ہیں۴- اور سدی کانام اسماعیل بن عبدالرحمن ہے، اور ان کا سماع انس بن مالک سے ہے،اور حسین بن علی کی رؤیت بھی انہیں حاصل ہے، شعبہ ، سفیان ثوری اور زائدہ نے ان کی توثیق کی ہے، نیز یحییٰ بن سعید القطان نے بھی انہیں ثقہ کہا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت