فهرس الكتاب

الصفحة 530 من 3890

کتاب: عیدین کے احکام و مسائل

عید کے دن پیدل چلنے کا بیان​

530 حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ مِنْ السُّنَّةِ أَنْ تَخْرُجَ إِلَى الْعِيدِ مَاشِيًا وَأَنْ تَأْكُلَ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ أَنْ يَخْرُجَ الرَّجُلُ إِلَى الْعِيدِ مَاشِيًا وَأَنْ يَأْكُلَ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ لِصَلَاةِ الْفِطْرِ قَالَ أَبُو عِيسَى وَيُسْتَحَبُّ أَنْ لَا يَرْكَبَ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عید کے لیے پیدل جانا اور نکلنے سے پہلے کچھ کھالینا سنت ہے۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اکثر اہل علم کااسی حدیث پرعمل ہے وہ مستحب سمجھتے ہیں کہ آدمی عید کے لیے پیدل جائے اور عید الفطرکی صلاۃ کے لیے نکلنے سے پہلے کچھ کھالے، ۳- مستحب یہ ہے کہ آدمی بلاعذر سوار ہوکرنہ جائے۔

نوٹ: (سندمیں حارث اعورضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناپر یہ حدیث حسن ہے )

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت