فهرس الكتاب
کتاب: سفر کے احکام ومسائل
قرآن کے سجدوں کا بیان
569 حَدَّثَنَا عَبْدُاللهِ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ عَنْ عُمَرَ، وَهُوَ ابْنُ حَيَّانَ الدِّمَشْقِيُّ، قَال: سَمِعْتُ مُخْبِرًا يُخْبِرُ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ: نَحْوَهُ بِلَفْظِهِ.
قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ وَكِيعٍ عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ وَهْبٍ. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ عَنْ عُمَرَ الدِّمَشْقِيِّ
اس سند سے بھی ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی اکرمﷺ سے اسی طرح انہیں الفاظ کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ سفیان بن وکیع کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے جسے انہوں نے عبداللہ بن وہب سے روایت کی ہے ۱؎ ، ۲- اس باب میں علی، ابن عباس، ابوہریرہ ، ابن مسعود ، زید بن ثابت اور عمر و بن عاص رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،۳- ابوالدرداء کی حدیث غریب ہے، ہم اِسے صرف سعید بن ابی ہلال کی روایت سے جانتے ہیں، اورسعیدنے عمر دمشقی سے روایت کی ہے۔
۱؎: یعنی عبداللہ بن عبدالرحمن کی حدیث سفیان بن وکیع کی حدیث کے مقابلے میں زیادہ راجح ہے کیو نکہ اس کا ضعف سفیان کی حدیث کے ضعف سے ہلکاہے سفیان بن وکیع متکلم فیہ ہیں۔