فهرس الكتاب

الصفحة 597 من 3890

کتاب: سفر کے احکام ومسائل

رات اور دن کی (نفل) صلاۃ دو دو رکعت کرکے پڑھنے کا بیان​

597 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى قَالَ أَبُو عِيسَى اخْتَلَفَ أَصْحَابُ شُعْبَةَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ فَرَفَعَهُ بَعْضُهُمْ وَأَوْقَفَهُ بَعْضُهُمْ وَرُوِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيِّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا وَالصَّحِيحُ مَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَرَوَى الثِّقَاتُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ صَلَاةَ النَّهَارِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَبِالنَّهَارِ أَرْبَعًا وَقَدْ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي ذَلِكَ فَرَأَى بَعْضُهُمْ أَنَّ صَلَاةَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ و قَالَ بَعْضُهُمْ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَرَأَوْا صَلَاةَ التَّطَوُّعِ بِالنَّهَارِ أَرْبَعًا مِثْلَ الْأَرْبَعِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَغَيْرِهَا مِنْ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَإِسْحَقَ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:' رات اور دن کی صلاۃ دو دو رکعت ہے' ۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں شعبہ کے تلامذہ میں اختلاف ہے، بعض نے اسے مرفوعًا بیان کیا ہے اور بعض نے موقوفًا، ۲- عبداللہ عمری بطریق: 'نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ ' روایت کی ہے۔ صحیح وہی ہے جو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: 'رات کی صلاۃ دو دو رکعت ہے'، ۳- ثقات نے عبداللہ بن عمر کے واسطے سے نبی اکرمﷺ سے روایت کی ہے، اس میں ان لوگوں نے دن کی صلاۃ کا ذکرنہیں کیاہے ۱؎ ، ۴- عبید اللہ سے مروی ہے، انہوں نے نافع سے ، اورنافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ وہ رات کودو دو رکعت پڑھتے تھے اور دن کو چار چار رکعت، ۵- اس مسئلہ میں اہل علم میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں رات اوردن دونوں کی صلاۃ دودو رکعت ہے، یہی شافعی اوراحمد کا قول ہے ،اوربعض کہتے ہیں: رات کی صلاۃ دو دو رکعت ہے، ان کی رائے میں دن کی نفل صلاۃ چار رکعت ہے مثلًا ظہر وغیرہ سے پہلے کی چار نفل رکعتیں، سفیان ثوری، ابن مبارک، اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔

۱؎: علامہ البانی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اس حدیث کی تصحیح بڑے بڑے ائمہ سے نقل کی ہے (دیکھئے صحیح ابی داودرقم۱۱۷۲) آپ کے عمل سے دونوں طرح ثابت ہے ، کبھی دودوکرکے پڑھتے اورکبھی چارایک سلام سے، لیکن اس قولی صحیح حدیث کی بناپر دن کی بھی صلاۃ دودو رکعت کرکے پڑھنا افضل ہے، ظاہر بات ہے کہ دوسلام میں اوراد و اذکارزیادہ ہیں، توافضل کیوں نہیں ہوگا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت