اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم (13) دیتا ہے کہ لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے، اگر لڑکیاں دو سے زیادہ ہوں تو انہیں ترکہ کا دو تہائی ملے گا، اور اگر ایک لڑکی ہوگی تو اسے آدھا ملے گا، اور اگر اس کا کوئی لڑکا ہے، تو اس کے باپ ماں میں سے ہر ایک و ترکہ کا چھٹا حصہ ملے گا، اور اگر اس کا کوئی لڑکا نہیں ہے اور اس کے وارث اس کے باپ ماں ہیں، تو اس کی ماں کو تہائی حصہ ملے گا، اگر میت کے کئی بھائی ہیں تو اس کی ماں کو چھٹا حصہ ملے گا (وراثت کی یہ تقسیم) میت کی وصیت 14) کی تنفیذ، یا اگر اس پر قرض ہے تو اس کی ادائیگی کے بعد ہوگی، تم نہیں جانتے کہ تمہارے آباء اور تمہارے لڑکوں (15) میں سے کون تماہرے لیے زیادہ نفع بخش ہیں (اس لیے) اللہ کے مقرر کیے ہوئے حصوں کو نافذ کرو، بے شک اللہ بڑا علم والا اور عظیم حکمتوں والا ہے