ف 4 یہ جملہ ہم تو کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے جملہ معترضہ ہے اس لے ترجمہ میں قوسین کے درمیان لکھا گیا ہے اس جملہ کو دمیان میں لانے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ جنت میں جانے لانے سے یہ بتابا مقصود ہے کہ جنت میں جانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو کام فرض کئے ہیں وہ نہایت آسان اور انسانی طاقت کے اند ر ہیں لہذ ہر شخص کو ان کے لیے بجالانے کی کوشش کرنی چاہیئے (کذافی لکبیر، وحیدی )