فهرس الكتاب

الصفحة 3549 من 6348

ف 5 یعنی رات کو بیدار ہو کر یا رہ کر وہ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں۔ جمہور مفسرین (رح) نے اس سے رات کا قیام مراد لیا ہے اور علمائے تفسیر (رح) نے اس سے نماز عشاء اور تہجد بھی مراد لی ہے۔ حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ یہ آیت نماز عشاء کے بارے میں نازل ہوئی اور ہم عشاء کی نماز سے پہلے لیٹنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ میں نے آنحضرت ﷺ کو کبھی عشاء سے پہلے لیٹے اور عشاء کے بعد باتیں کرتے نہیں دیکھا اور ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے آدھی رات کے قیام کو خیر کا دروازہ قرار دیا ہے۔ ( ابن کثیر، شوکانی) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت