فهرس الكتاب

الصفحة 251 من 6348

۔ ف 5 یہ لوگ کون تھے اور کہاں سے نکلے تھے اس بارے میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی حدیث ثابت نہیں ہے البتہ حضرت ابن عباس (رض) اور بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ اسرائلی تھے۔ جہاد میں قتل کے خوف یا طاعون سے بچنے کے لیے اپنے شہر سے بھاگے جن ایک مقام پر پہنچے تو اللہ کے حکم سے سب مرگئے، اتفاق سے اللہ تعالیٰ کے ایک نبی وہاں سے گزر ہوا اس نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ زندہ کیا۔ (قرطبی۔ رازی) یو آیت کے شرو میں لفظ الم تر سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا قصہ نزول آیت کے وقت عام طور پر مشہور ومعروف تھا۔ (فتح القدیر) یہ قصہ قیامت یے روز معاد جسمانی کی قطعی دلیل ہے اور جہاں ذکر کرنے سے مقصد جہاد کی ترغیب ہے۔ صحیحین میں حضرت عبدالر رحمن بن عوف سے روایت ہے کہ جس مقا پر وبا پھوٹ پڑے وہاں سے فراف کرنے سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا ہے اور اس مقام پر جانے سے بھی منع فرمایا ہے۔ (ابن کثیر )

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت