فهرس الكتاب

الصفحة 354 من 6348

ف 4 یہ سورت شروع سے لر کر یہاں تک وفد نجران کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس وفد نے آنحضرت ﷺ سے بحث کے دوران میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی بنوہ (بیٹا ہونا) پر اس سے استدلال کیا کیا کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں۔، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تر دید فرمائی کہ اگر بغیر باپ کے پیدا ہو با بنوہ کی دلیل ہوسکتا ہے تو آدم ( علیہ السلام) جو ماں باپ کے بغیر پیدا ہوئے وہ بالا ولیٰ اللہ کا بیٹا کہلا نے کے حقدار ہیں مگر نہ یہ صراحتاباطل ہے۔ اصل میں اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ ( علیہ السلام) کی طرح حضرت مسیح ( علیہ السلام) کو بھی کن سے پیدا کر کے اپن قدرت کاملہ کو ظاہر فرمادیا ہے۔ (اب ن کثیر )

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت