ف 1 یعنی اللہ تعالیٰ اپنے احکام اس لیے بیان فرمارہا ہے کہ تم کو حلال وحرام کا پتا چل جائے اور پہلے لوگوں کے عہدہ طریق کی ہدایت ہوجائے پہلے لوگوں سے مراد انبیا ( علیہ السلام) اور ان کی امتوں کے نیک لوگ ہیں۔ (ابن کثیر، شوکانی) ف 2 یعنی شہوت پر ستوں کے کہنے میں نہ آو مراد یہود و نصاریٰ یا مجوسی ہیں جو محارم کے ساتھ بھی نکاح جائز سمجھتے تھے ،۔ (رازی قرطبی )