فهرس الكتاب

الصفحة 3040 من 6348

1۔ یعنی ایسے نیک اعمال کی توفیق دے کہ قیامت تک آنے والی نسلیں میرا ذکر خیر کرتی رہیں یا آخر زمانہ میں میری نسل سے نبی ( علیہ السلام) ہو۔ چنانچہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی یہ دعا قبول ہوئی، ان کی نسل سے خاتم الانبیا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث فرمایا اور ان کی ملت کو عالمگیر قبولیت بخشی کہ یہودی عیسائی مسلمان سب انہیں اپنا پیشوا مانتے ہیں اور ان کا ذکر خیر کرتے ہیں۔ (شوکانی۔ ابن کثیر) مسلمان تو اپنی ہر نماز میں " کما صلیت علی ابراہیم" اور ' کما بارکت علی ابراہیم" پڑھتے ہیں۔ (دیکھئے صافات آیت:108)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت