فهرس الكتاب

الصفحة 3288 من 6348

2۔ یعنی بیٹے کی جدائی میں ایسی بے قرار ہوئیں کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کے سوا کسی اور چیز کا خیال دل میں نہ رہا، یا وہ اللہ کی وحی کے سبب مطمئن تھیں۔ (شوکانی) 3۔ یعنی ہم نے جو اس سے وعدہ کیا تھا کہ " انا رادوہ الیک" اس کو عنقریب تیرے پاس لے آئیں گے۔" اس پر اس کا ایمان پختہ رکھنے کے لئے اگر ہم نے ان کی ڈھارس نہ بندھائی ہوتی تو وہ لوگوں پر اپنا راز فاش کر بیٹھتیں۔ (شوکانی)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت