ف 1 آیت قل لمن مافی السمٰوٰ ت والا رض میں مکان جگہ کے اعتبار سے تعمیم تھا اذلامکان سوا ھما اور اس آیت میں تعمیم باعتبار زمان ہے کیونکہ رات دن کے علاوہ اور کوئی زمان (وقت) نہیں ہے گویا ہر جگہ اور ہر وقت اس کو حکومت اور اسی کا قبضہ وقتدار ہے۔ (رازی) یادرہے کہ یہاں سکون بمعنی حلول ہے یعنی رہنا اور سکون جو حرکت کی ضد ہے وہ مراددنہی ہے پھر یہ ثابت کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ تمام مکا نیات کا مالک ہے۔ اسمیع العلیم فرماکر اللہ تعالیٰ کے فاعل مختار ہونے کی طرف اشارہ فرمایا ہے جس سے ایجاب بالذات کی تردید ہوتی ہے (رازی)