فهرس الكتاب

الصفحة 2633 من 6348

ف 1۔ یہاں سجدہ کا لفظ بیک وقت دو معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ایک " انقیاد" یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے عاجزی و بے بسی جس میں سب مخلوق شامل ہے۔ عام اس سے کہ وہ عق و شعور رکھتی ہے یا نہیں کیونکہ ہر چیز اس کے تکوینی قانون کے مطابق کام کررہی ہے اور دوسرے سجدہ کے معنی ہیں اطاعت فرمانبرداری یعنی تکلیفی اور شرعی احکام کو اپنے اختیار و ارادہ سے بجالانا اس معنی میں سجدہ صرف ذوی العقول کے ساتھ مخصوص ہے اور " کثیر من الناس" سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ اس سجدہ سے منکر ہیں دوسری تمام مخلوق یہ سجدہ بجالارہی ہے۔ (فتح القدیر)

ف 2۔ یعنی اسے کافر و مشرک بنا کر ذلیل کرے۔

ف 3۔ اس مقام پر سجدہ ہے اور سورۃ حج کے اس سجدہ پر سب دائمہ کا اتفاق ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت