فهرس الكتاب

الصفحة 3360 من 6348

3۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے کسی کو رزق زیادہ دینے کا مطلب لازمًا یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہے۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ کسی کا رزق تنگ کرتا ہے تو اس کا مطلب لازمًا یہ نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہے۔ بسا اوقات بے پناہ دولت انسان کی تباہی کا موجب بن جاتی ہے اور بسا اوقات تنگی انسان کے صبر و شکر کا امتحان لینے کے لئے آتی ہے۔ حدیث میں ہے کہ مال تو اللہ تعالیٰ اپنے محبوب اور مبغوض دونوں کو دے دیتا ہے مگر ایمان کی دولت اسی کو نصیب ہوتی ہے جو اللہ کا محبوب ہوتا ہے۔ (ابن کثیر) 4۔ یعنی ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ دنیا کی خوشحالی اور دولت مندی ہی بڑی کامیابی ہے اور اس بنا پر ہم قارون کو بڑا بانصیب آدمی خیال کرتے تھے۔ لیکن اب معلوم ہوا کہ ہمارا یہ سمجھنا غلط تھا۔ اصل کامیابی اور حقیقی فلاح کچھ اور ہی ہے جو کافروں کو نصیب نہیں ہوتی بلکہ صرف اہل ایمان کے حصہ میں آتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت