فهرس الكتاب

الصفحة 3194 من 6348

1۔ " جان" اصل میں چھوٹے سفید سانپ کو کہتے ہیں۔ سورۃ اعراف (آیت:107) اور سورۃ شعرا۔ (آیت:32) میں اس کے لئے " ثعبان" کا لفظ آیا ہے جس کے معنی بڑے سانپ (اژدہا) کے ہیں۔ معلوم ہوا کہ وہ سانپ اصل میں بڑا اژدہا رہا تھا لیکن اپنی حرکت کی تیزی میں چھوٹے سانپ جیسا تھا۔ بعض نے لکھا ہے کہ کبھی " جان" بن جاتا اور کبھی " ثعبان"۔ اس لئے ان دو لفظوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں، " اول شک سی بن گئی تھی پتلی جب فرعون کے آگے ڈالی تو ناگ ہوگئی بڑھ کر۔ (موضح) 2۔ یہ خوف طبعی بتضائے بشریت تھا۔ (قرطبی) 3۔ یعنی میرے حضور پہنچ کر انبیا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، سانپ وغیرہ کسی چیز سے نہیں ڈرا کرتے کیونکہ یہاں تو وہ اخذ وحی میں بالکل مستغرق ہوتے ہیں اور کسی طرف التفات نہیں رہتا۔ (شوکانی)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت