فهرس الكتاب

الصفحة 2900 من 6348

4۔ بعض نے اس سے قیامت کا دن مراد لیا ہے۔ جیسا کہ بعد کی آیت: وقدمنا الی ما عملوا سے معلوم ہوتا ہے مگر صحیح یہ ہے کہ اس سے ان کی موت کا دن مراد ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے۔ اور احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ نیز دیکھئے انفال 50 و انعام 93 (ابن کثیر) 5۔ یا یہ کلمہ مجرمین خود کہیں گے (یعنی خدا کی پناہ) یعنی فرشتوں سے ڈر کر پناہ مانگیں گے۔ یہ محاورہ (حجرًا محجورًا) عرب عمومًا اس وقت استعمال کرتے جب کوئی سخت آفت ان پر آ پڑتی۔ جیسے ہم ایسے موقع پر کہتے ہیں " یا اللہ بچائیو"۔ قاضی شوکانی نے اسی مطلب کو ترجیح دی ہے مگر حافظ ابن کثیر (رح) نے پہلے مطلب کو اختیار کیا ہے (ابن کثیر۔ شوکانی)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت