ف 2 اس آیت میں اعلیٰ سے ادنیٰ پر تنبیہ فرمائی ہے یعنی جب پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ سے ڈرتے رہنے اور کافروں اور منافقوں کی بات ماننے کی تاکید کی ہے تو دوسرے لوگوں کو بطریق اولیٰ یہ حکم ہے۔ ( ابن کثیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں " کافر چاہتے اپنی طرف نرم کرنا اور منافق چاہتے تھے اپنی چال سکھانی اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ پر بھروسہ ہے اس سے دانا کون ہے"؟ ( موضح)