فهرس الكتاب

الصفحة 2762 من 6348

6۔ پس یہاں " القول" سے مراد قرآن ہے جیسا کہ دوسری آیت میں ہے: افلا یتدبرون القران۔ کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے۔ (نساء:82) یعنی اگر غور کرتے تو صاف معلوم ہوجاتا کہ قرآن سچی کتاب۔7۔ یعنی قرآن میں کوئی ایسی بات نہیں ہے بلکہ اس میں وہی باتیں ہیں جو اللہ کے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر زمانہ میں لاتے رہے ہیں۔ یہاں " اباء ھم الاولین" سے مراد پہلی امتیں ہیں۔ کیونکہ عربوں کے آباء کے متعلق تو تصریح موجود ہے کہ ان کے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ (یٰٓس:6)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت