۔ ف 5 یعنی جسے نہ اللہ تعالیٰ خود ٹالے گا اور نہ کسی دوسرے میں طاقت ہے کہ اسے ٹالنے پر مجبور کرسکے۔
ف 6" بلکہ تمہیں چار و ناچاران کا اقرار کرنے پڑے گا، کیونکہ تمہارے ہاتھ پائوں تک تمہارے خلاف گواہ بن کر کھڑے ہوجائیں گے "۔ یہ مطلب اس صورت میں ہے جب " نکیر" کے معنی " انکار" کئے جائیں اور اگر اس کے معنی " منکر" ( بدلنے والا) کئے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ نہ کوئی تمہارے حال کو بدلنے والا ہوگا "۔ حافظ ابن کثیر (رح) اس کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ " تمہارے لئے بھیس بدل کر بچ نکلنے کا کوئی بھی موقع نہ ہوگا۔