فهرس الكتاب

الصفحة 947 من 6348

اس آیت میں جس طرح ادیان باطلہ سے منع فرمایا گیا ہے اس طرح اسلام میں بھی تفرقہ پسندی سے روک دیا گیا ہے پس جو راہ کتاب وسنت کے سوا ہو جس پر تین مشھود لھا بالخیر گزرے ہیں وہ سب راستے ممنوع ٹھہرے خواہ تقلید مذاہب اربعہ ہو یہ اہل بدعت کے مشارب ہوں۔ پرانی اور ہر قسم کی بد عات گمرہ کن ہیں۔ مسلمان کو حکم ہے اللہ کابندہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت بن کر رہے۔ خود ائمہ دین اور سارے مجتہدین سلف وخلف نے یہی وصیت کی ہے کہ کوئی ان کی تقلید نہ کرے بلکہ سب کے سب کتاب وسنت کی اتباع کریں یہی طریقہ اہل حدیث وجماعت نے اختیار کیا ہے اور اسی کی طرف دعوت دی ہے۔ ( ما خوذ از تر جمان النواب)

ف 4 یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور تقوی کی راہ ہے، حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کون ہے جوان آیتوں پر میری بیعت کرتا ہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قل تعالوا سے لعلکم تقتون تک ان تین آیتوں کی تلاوت کر کے فرمایا جس نے ان کو پورا کیا اللہ تعالیٰ کے ذمہ اس کاجر ہے اور جس نے ان میں سے کسی چیز میں کمی کی اور اللہ تعالیٰ نے اسے دنیا ہی میں پکڑ لیا تو وہی اس کی سزا ہے اور جسے اس نے مہلت دی اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے چاہے اسے سزادے اور چاہے اسے معاف فرما دے ( ابن کثیر بحوالہ ترمذی وغیرہ )

ف 5 نیک بندے سے مراد حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کو تورات دی اور ان کو اپنی نعمت سے نوازا، اس کلام سے مقصود مذکرہ وصیت کی تقریر و تحقیق ہے۔ (کذافی الروح )

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت