ف 5 اس سے مراد دوسرا نفخہ ہے یعنی وہ جس کے ساتھ ہی تمام مرے ہوئے لوگ دوبارہ زندہ ہو کر جزا و سزا کے لئے اٹھ کھڑے ہونگے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں بے فکر کیسے رہوں حالانکہ فرشتے نے " صور"' سنبھال یا ہے اور گردن جھکالیا ہے اور وہ اجازت ملنے کے انتظار میں ہے۔ صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! تو ہم کیا کہا کریں، فرمایا یہ کہا کرو: حسبنا اللہ ونعم الوکیل " ہمارے لئے اللہ کافی ہے اور وہی اچھا کار ساز ہے۔" (ابن کثیر)