فهرس الكتاب

الصفحة 3530 من 6348

ف 14 یعنی سمندر میں مصیبت پڑنے کے وقت اللہ تعالیٰ کی بندگی کا جو اقرار اس نے کیا تھا اس پر قائم رہت اہے۔ اصل میں " اقتصاد" کے معنی راست روی اور میانہ روی کے ہیں اور یہ لفظ ظالم کے مقابل ہمیں بھی اسعتمال ہوا ہے۔ (دیکھیے سورۃ فاطر(آیت 32) بعض مفسرین نے اس کے معنی " کافر" کئے ہیں کیونکہ سورۃ عنکبوت (آیت 65) میں ہے۔ " فلما نجاھم الی البر اذا ھم یشرکون" " تو جب اس نے انہیں نجات دی تو اچانک وہ شرک پر اتر آئے۔" مگر یہ استدلال صحیح نہیں ہے۔ (ابن کثیر)

ف 1 یعنی جو مصیبت کا وقت ٹل جانے پر سب کچھ بھول جاتے ہیں اور اپنے قول و قرار کا بھی کوئی پاس نہیں کرتے۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ پہلے جملہ میں ' دمقتصد" کے معنی راست روی اختیار کرنے والے ہی کے ہیں۔ (شوکانی)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت